Forts in لاھور

قلعہ لاہور

151,935 people have been here
8.0/10

قلعہء لاہور، جسے مقامی طور پر شاہی قلعہ بھی کہا جاتا ہے، پاکستان کے صوبہء پنجاب کے شہر لاہور میں واقع ہے۔ یہ قلعہ شہر کے شمال مغربی کونے پر واقع ہے۔ گو کہ اس قلعہ تاریخ زمانہء قدیم سے جا ملتی ہے لیکن اس کی ازسرِ تعمیر مغل بادشاہ اکبر اعظم (1605-1556) نے کروائی جبکہ اکبر کے بعد آنے والی نسلیں بھی تزئین و آرائش کرتی رہیں۔ لہذٰا یہ قلعہ مغلیہ فنِ تعمیر و روایت کا ایک نہایت ہی شاندار نمونہ نظر آتاہے۔

قلعہء لاہور، جسے مقامی طور پر شاہی قلعہ بھی کہا جاتا ہے، پاکستان کے صوبہء پنجاب کے شہر لاہور میں واقع ہے۔ یہ قلعہ شہر کے شمال مغربی کونے پر واقع ہے۔ گو کہ اس قلعہ تاریخ زمانہء قدیم سے جا ملتی ہے لیکن اس کی ازسرِ تعمیر مغل بادشاہ اکبر اعظم (1605-1556) نے کروائی جبکہ اکبر کے بعد آنے والی نسلیں بھی تزئین و آرائش کرتی رہیں۔ لہذٰا یہ قلعہ مغلیہ فنِ تعمیر و روایت کا ایک نہایت ہی شاندار نمونہ نظر آتاہے۔ قلعے کے اندر واقع چند مشہور مقامات میں شیش محل، عالمگیری دروازہ، نولکھا محل اور موتی مسجد شامل ہیں۔ 1981ء میں یونیسکو نے اس قلعے کو شالامار باغ کے ساتھ عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیا تھا۔

تاریخ

قلعہء لاہور کی تعمیر کے حوالے سے مختلف مبہم اورروایتی حکایات موجود ہیں۔ تاہم 1959ء کی کھدائی کے دوران جو کہ محکمہء آثارِ قدیمہ نے دیوان عام کے سامنے کی، جس میں محمود غزنوی 1025ء کے دور کا سونے کا سکہ ملا۔جو کہ باغیچہ کی زمین سے تقریبا 62 .7 میٹر گہرائی میں ملا۔ جبکہ پانچ میٹر کی مزید کھدائی سے ملنے والے قوی شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ یہاں پر آبادی محمود غزنوی کے لاہور فتح کرنے سے بھی پہلے تقریباً 1021ء میں موجود تھی۔ مزید برآں یکہ اس قلعہء کی نشانیاں شہاب الدین غوری کے دور سے بھی ملتی ہیں جب اُس نے 1180ء تا 1186ء لاہور پر حملوں کئے تھے۔

قلعہء لاہور وقت کے تناظر میں

یہ بات یقین سے نہیں کہی جاسکتی کہ قلعہء لاہور کی بنیاد کس نے اور کب رکھی تھی چونکہ یہ معلومات تاریخ کے اوراق میں دفن ہوچکی ہیں، شاید ہمیشہ کے لئے، تاہم محکمہء آثارِ قدیمہ کی کھدائی کے دوران ملنے والے اشارات سے پتہ چلتا ہے کہ یہ 1025ء سے بھی بہت پہلے تعمیر کیا گیا تھا، جن کی تفصیل درج ذیل ہے:

  • 1241ء - منگولوں کے ہاتھوں تباہ ہوا۔
  • 1267ء - سلطان غیاث الدین بلبن نے دوبارہ تعمیر کرایا۔
  • 1398ء - امیر تیمور کی افواج کے ہاتھوں تباہ ہوا۔
  • 1421ء - سلطان مبارک شاہ سید نے مٹی سے دوبارہ تعمیرکروایا۔
  • 1432ء - قلعے پر کابل کے شیخ علی کا قبضہ ہوگیا اور اُس نے قلعے کو شیخا کھوکھر کے تسلط کے دوران پہنچنے والے نقصان کا ازالہ کرتے ہوئے اس کی مرمت کروائی۔
  • 1566ء - مغل فرمانروا اکبر نے پکی اینٹوں کی کاریگری سے، اس کی پرانی بنیادوں پر دوبارہ تعمیر کروائی اور شاید اسی وقت اس کو دریائے راوی کی سمت وسعت دی تقریباً 1849ء میں، جب راوی قلعہء لاہور کی شمالی دیوار کے ساتھ بہتا تھا۔ اکبر نے “دولت کدہء خاص و عام“ بھی تعمیر کروایا جوکہ “جھروکہء درشن“ کے نام سے مشہور ہے اور اس کے علاوہ مسجد دروازہ وغیرہ بھی بنوایا۔
  • 1618ء - جہانگیر نے “دولت کدہء جہانگیر“ کا اضافہ کیا۔
  • 1631ء - شاہجہاں نے شیش محل تعمیر کروایا۔
  • 1633ء - شاہجہاں نے “خوابگاہ“، “حمام“، “خلوت خانہ“ اور “موتی مسجد“ تعمیر کروائی۔
  • 1645ء - شاہجہاں نے “دیوان خاص“ تعمیر کروایا۔
  • 1674ء - اورنگزیب نے انتہائی جسیم عالمگیری دروازہ لگوایا۔
  • 1799ء یا 1839ء - اس دوران شمالی فصیل جوکہ کھائی کے ساتھ واقع ہے، سنگ مرمر کا “ہتھ ڈیرہ“، “حویلی مائی جنداں“، “بارہ دری راجہ دھیاں سنگھ“ کی تعمیر رنجیت سنگھ نے کرائی، ایک سکھ حکمراں جوکہ 1799ء تا 1839ء تک حاکم رہا۔
  • 1846ء - برطانیہ کا قبضہ
  • 1927ء - قلعے کی جنوبی فصیل کو منہدم کرکے، اس کی مضبوط قلعے کی حیثیت کو ختم کرکے اسے برطانیہ نے محکمہء آثارِ قدیمہ کو سونپ دیا۔

قلعہء لاہور کی دیدہ زیب تصاویر

قلعہء لاہور کی تصاویر جو اس کی شان و شوکت اور جاہ و حشم کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

تعمیری ڈھانچہ

مغلیہ سلطنت میں کابل، ملتان اور کشمیر کے فرمائرواؤں کے حملے کے پیشِ نظر لاہور کی جغرافیائی اہمیت اس بات کی متقاضی تھی کہ قلعہء لاہور کو پکی اینٹوں کی کاریگری کرکے ایک مضبوط قلعہ بنایا جائے۔ اس کے تعمیری ڈھانچے میں فارسی رنگ چھلکتا ہے جوکہ مختلف شاہوں کی فتوحات کے ساتھ ساتھ گہرا ہوتا چلا گیا۔ یہ قلعہ واضح طور پر دو حصوں میں منقسم ہے پہلا حصہء منتظم، جو کہ تمام تر داخلی راستوں سے بخوبی جُڑا ہوا ہے اور اس کے اندر تمام باغیچے اور شاہی حاضرین کے لئے دیوان عام بھی شامل ہے۔ جبکہ دوسرا حصہ نجی و خفیہ رہائشگاہوں پر مشتمل ہے جوکہ شمالی سمت میں صحن اور دالانوں میں پھیلے ہوئے ہیں، جن تک رسائی کے لئے “ہاتھی دروازہ“ استعمال ہوتا تھا۔ اسی میں شیش محل بھی شامل ہے، وسیع آرام دہ کمرے اور چھوٹے باغیچے بھی اس میں موجود ہیں۔ بیرونی حصے کی دیواریں نیلی فارسی کاشی کاری کا بہترین نمونہ ہیں۔ اس کا اصل داخلی راستہ “مریم زمانی مسجد“ کے سامنے ہے جبکہ بڑا عالمگیری دروازہ حضوری باغ کی طرف کھلتا ہے، جہاں عظیم الشان بادشاہی مسجد بھی واقع ہے۔

Post a comment
Tips & Hints
Arrange By:
Ayeshah Alam Khan
19 November 2011
Be sure to pay a little extra and get a guide... you can pay extra and get into places that usually are not open to the public... its a scam I'm sure but worth the few extra bucks
Hozzi Khan
18 April 2013
Badshahi Mosque is the biggest Mosque of the World...........:)
Load more comments
foursquare.com
Location
Map
Address

Circular Road, لاہور، پاکستان

Get directions
Open hours
Mon-Sun 8:30 AM–5:00 PM
References

Lahore Fort on Foursquare

قلعہ لاہور on Facebook

Hotels nearby

See all hotels See all
Pearl Continental Lahore

starting $161

Luxus Grand Hotel

starting $95

Hotel One The Mall Lahore

starting $72

GRAND MILLENNIUM HOTEL LAHORE

starting $35

The Residency Hotel

starting $90

Safari hotel

starting $37

Recommended sights nearby

See all See all
Add to wishlist
I've been here
Visited
مینار پاکستان
anasubasic

پس منظر

Add to wishlist
I've been here
Visited
نولکھا
anasubasic

نولکھا پنجاب، پاکستان کے شہر لاہور میں واقع قلعہ لاہور کے شمالی حصے می

Add to wishlist
I've been here
Visited
شیش محل
anasubasic

شیش محل، پاکستان کے شہر لاہور کے شاہ برج میں مغل دور کی عمارت ہے

Add to wishlist
I've been here
Visited
موتی مسجد
anasubasic

موتی مسجد موتی مسجد, لاہور سترہویں صدی کی مذہبی عمارتوں میں سے ایک ہے

Add to wishlist
I've been here
Visited
لاہور چڑیا گھر
anasubasic

چڑیا گھر لاہور جو پاکستان کے صوبہ پنجاب میں واقع ہے، 1872ء م

Add to wishlist
I've been here
Visited
شالامار باغ
anasubasic

شالیمار باغ یا شالامار باغ مغل شہنشاہ شاہ جہاں نے لاہور میں 1641ء-16

Add to wishlist
I've been here
Visited
واہگہ
anasubasic

Add to wishlist
I've been here
Visited
داتا دربار
anasubasic

داتا دربار لاہور، پاکستان کا بہت مشہور دربار یا مزار ہے جو تقریباً ایک

Similar tourist attractions

See all See all
Add to wishlist
I've been here
Visited
قلعہ آگرہ
انڈیا

قلعہ آگرہ * قلع

Add to wishlist
I've been here
Visited
لال قلعہ
انڈیا

کے نزدیک واقع لال قلعہ مغلیہ سلطنت کے سنہری دور کی یادگار ۔اسے سترو

Add to wishlist
I've been here
Visited
شالامار باغ
anasubasic

شالیمار باغ یا شالامار باغ مغل شہنشاہ شاہ جہاں نے لاہور میں 1641ء-16

Add to wishlist
I've been here
Visited
Lekh Castle
آذر بائجان

Lekh Castle is a tourist attraction located in Kanlykend, آذر بائجان

Add to wishlist
I've been here
Visited
Kazan Kremlin
روس

Kazan Kremlin is a tourist attraction located in Kazan', روس

See all similar places